السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14375
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْخَثْعَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " انْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا الْعَلَائِقُ بَيْنَهُمْ؟ قَالَ: " مَا تَرَاضَى عَلَيْهِ أَهْلُوهُمْ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن بیلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی بیواؤں کے نکاح کرو۔“ کہنے لگے: کتنے حق مہر کے عوض؟ فرمایا: ”جتنے پر ان کے گھر والے آپس میں رضامند ہو جائیں۔“