السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14373
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيِّ ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمَّارُ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى نَعْلَيْنِ فَأَجَازَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ أَيْ نِكَاحَهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے ایک عورت سے دو جوتوں کے عوض شادی کی ہے، تو نبی ﷺ نے اس کے نکاح کو جائز رکھا۔