السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُهَاجِرًا فَآخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: لِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَيَّتَهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجْهَا، وَلِي مَالٌ فَنِصْفُهُ لَكَ، فَقَالَ بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ فَدَلُّوهُ قَالَ: فَلَمْ يَرْجِعْ يَوْمَئِذٍ حَتَّى جَاءَ بِأَشْيَاءَ، ثُمَّ فَقَدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ وَعَلَيْهِ وَضَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ: " مَهْيَمْ؟ "، فَقَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: " عَلَى كَمْ؟ " قَالَ: عَلَى نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ أَوْ قَالَ: وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ "، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: أَصَابَ شَيْئًا مِنْ سَمْنٍ وَأَقِطٍ رَبِحَهُ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ.حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو نبی ﷺ نے ان کو سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کا بھائی بنا دیا، تو سعد رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے کہا: میری دو بیویاں ہیں جو آپ کو پسند ہو میں طلاق دے دیتا ہوں، عدت گزرنے کے بعد شادی کر لینا اور میرا نصف مال آپ کے لیے ہے، تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: «بَارَكَ اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ» ”اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و عیال اور مال میں برکت دے، آپ مجھے بازار کا راستہ بتائیں“، تو انہوں نے بتا دیا، وہ کچھ اشیاء لے کر ہی واپس پلٹے، پھر نبی ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض یا کہا: گٹھلی کے وزن کے برابر سونے کے عوض۔ فرمایا: ”ولیمہ کرو چاہے ایک بکری ہی سہی۔“
(ب) حضرت انس رضی اللہ عنہ بھی اس طرح روایت فرماتے ہیں کہ جو بھی انہوں نے گھی یا پنیر خریدا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو نفع ہی دیا۔