السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من القصد في الصداق باب: مہر میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: فَتًى، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " قَالَ: قَدْ نَظَرْتُ إِلَيْهَا قَالَ: " عَلَى كَمْ تَزَوَّجْتَهَا؟ فَذَكَرَ شَيْئًا " قَالَ: " فَكَأَنَّكُمْ تَنْحِتُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ مِنْ عَرْضِ هَذِهِ الْجِبَالِ، مَا عِنْدَنَا الْيَوْمَ شَيْءٌ نُعْطِيكَهُ وَلَكِنْ سَأَبْعَثُكَ فِي وَجْهٍ تُصِيبُ فِيهِ "، فَبَعَثَ بَعْثًا إِلَى بَنِي عَبْسٍ وَبَعَثَ الرَّجُلَ فِيهِمْ فَأَتَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَعْيَتْنِي نَاقَتِي أَنْ تَنْبَعِثَ قَالَ: فَنَاوَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ كَالْمُعْتَمِدِ عَلَيْهِ لِلْقِيَامِ فَأَتَاهَا فَضَرَبَهَا بِرِجْلِهِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُهَا تَسْبِقُ الْقَائِدَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص یا نوجوان نبی ﷺ کے پاس آیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کی طرف دیکھا؟ کیونکہ انصار کی آنکھوں میں کچھ ہوتا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے دیکھا ہے، فرمایا: ”تو نے کتنا حق مہر ادا کیا ہے؟“ اس نے کچھ ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گویا کہ تم سونے، چاندی کو ان پہاڑوں سے کرید لیتے ہو۔ لیکن آج ہمارے پاس جو کچھ ہے آپ کو دیں گے لیکن میں تجھے اس طرف روانہ کرتا ہوں جہاں سے آپ کچھ حاصل کر لیں گے۔“ اور آپ ﷺ نے بنو عبس کی طرف لشکر میں اس کو روانہ کر دیا، تو وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میری اونٹنی تھک گئی ہے کہ مجھے اٹھائے، تو رسول اللہ ﷺ اس کے ہاتھ کا سہارا لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو پاؤں سے مارا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ باقی سواریوں سے آگے بڑھ گئی تھی۔