السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من القصد في الصداق باب: مہر میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14344
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ ⦗٣٨٢⦘ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ " قَالَتْ: " أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟ " قُلْتُ: لَا، قَالَتْ: " نِصْفُ أُوقِيَّةٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کتنا حق مہر ادا کیا تھا؟ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنی بیویوں کو صرف ١٢ «أُوقِيَّة» ”اوقیہ“ حق مہر ادا کیا۔ پوچھنے لگیں کہ کیا پتا ہے «نَشّ» ”نش“ سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو فرمایا: «نِصْفُ أُوقِيَّة» ”نصف اوقیہ“۔