حدیث نمبر: 14312
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: فَرَدَّ الْحَدِيثَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: ذُكِرَ الْعَزْلُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ: " وَمَا ذَاكُمْ؟ " قَالُوا: الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ تُرْضِعُ، فَيُصِيبُ مِنْهَا يَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، أَوْ تَكُونَ لَهُ الْجَارِيَةُ فَيَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَلَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا ⦗٣٧٥⦘ تَفْعَلُوا ذَاكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدَرُ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ..
حافظ ثناء اللہ

حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے عزل کا تذکرہ کیا گیا۔ راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہے؟“ انھوں نے کہا کہ عورت کے دودھ پلانے کی مدت میں مرد مجامعت کو ناپسند کرتے ہیں کہ کہیں وہ حاملہ نہ ہو جائے یا اس کی لونڈی ہے تو اس کے حاملہ ہونے کو بھی ناپسند کرتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کیا کرو، یہ تو اللہ کی تقدیر ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14312
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»