السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: العزل باب: عزل (دورانِ ہم بستری انزال باہر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 14308
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعِ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ⦗٣٧٤⦘ فَرَأَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَأَصَبْنَا سَبْيًا مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَاشْتَهَيْنَا النِّسَاءَ، وَاشْتَدَّتْ عَلَيْنَا الْعُزْبَةُ وَأَحْبَبْنَا الْفِدَاءَ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَعْزِلَ، فَقُلْنَا: نَعْزِلُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ؟ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " مَا عَلَيْكُمْ أًلَّا تَفْعَلُوا ذَلِكَ، مَا مِنْ نَسَمَةٍ كَائِنَةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ إِلَّا وَهِيَ كَائِنَةٌ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن محیریز کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو دیکھا، میں ان کے قریب بیٹھ گیا اور عزل کے بارے میں سوال کیا تو ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق میں نکلے تو ہمیں عرب کی قیدی عورتیں ملیں، ہمیں عورتوں کی چاہت تھی زیادہ دیر عورتوں سے دور رہنے کی وجہ سے اور ہم فدیہ بھی چاہتے تھے۔ تو ہم نے عزل کا ارادہ کیا۔ تو ہم نے کہا: رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں اور بغیر سوال کیے؟ تو ہم نے اس بارے میں پوچھ ہی لیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیا ہے کہ تم ایسا کرتے ہو؟ جو بھی جان قیامت تک آنی ہے وہ آکر ہی رہے گی۔“