السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: العزل باب: عزل (دورانِ ہم بستری انزال باہر کرنے) کا بیان۔
حدیث نمبر: 14307
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي الْعَزْلَ قَالَ: " وَلِمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَحَدُكُمْ؟ وَلَمْ يَقُلْ فَلَا يَفْعَلْ أَحَدُكُمْ فَإِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ إِلَّا اللهُ خَالِقُهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَوَارِيرِيِّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ مُجَاهِدٌ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے عزل کا تذکرہ کیا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”تم میں سے کوئی یہ کیوں کرتا ہے؟“ یہ نہ فرمایا کہ تم ایسا نہ کرو، پھر فرمایا: ”جو مخلوق اللہ نے پیدا کرنی ہے وہ ہو کر رہے گی۔“