السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الأمة تعتق وزوجها عبد باب: اس لونڈی کا بیان جو آزاد کر دی جائے اور اس کا شوہر غلام ہو۔
حدیث نمبر: 14273
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ: " إِذَا كَانَتِ الْأَمَةُ تَحْتَ الْعَبْدِ فَعَتَقَا جَمِيعًا فَلَا خِيَارَ لَهَا، وَإِنْ عَتَقَتْ قَبْلَهُ وَسَكَتَتْ حَتَّى عَتَقَ زَوْجُهَا فَلَا خِيَارَ لَهَا أَيْضًا "، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
اہلِ مدینہ کے فقہاء جن کا قول معتبر ہے فرماتے ہیں: جب لونڈی غلام کے نکاح میں ہو اور دونوں کو اکٹھے آزادی ملے تو عورت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ اگر لونڈی کو پہلے آزادی ملی اور وہ خاموش رہی اور اس کے خاوند کو بھی آزادی مل گئی تب بھی اس کو کوئی اختیار نہیں ہے۔