السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الأمة تعتق وزوجها عبد باب: اس لونڈی کا بیان جو آزاد کر دی جائے اور اس کا شوہر غلام ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا بُنْدَارٌ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ الدُّورِيُّ، ثنا أَحْمَدُ الدَّوْرَقِيُّ قَالَا: أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَلَا تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا؟ "، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ "، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ تَأْمُرُنِي؟، قَالَ: " لَا، إِنَّمَا أَنَا أَشْفَعُ "، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ.عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کا خاوند غلام تھا، جس کو مغیث کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ وہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے پیچھے روتا پھر رہا ہے اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر گر رہے ہیں۔ نبی ﷺ نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”کیا مغیث کی محبت جو بریرہ کے ساتھ ہے اور بریرہ کا مغیث سے بغض، اس سے آپ تعجب کرتے ہیں؟“ پھر نبی ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاؤ تو یہ آپ کے بچوں کا باپ ہے۔“ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔“ کہتی ہیں: پھر مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔