السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من قال: يرجع المغرور بالمهر وقيمة الأولاد على الذي غره باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ دھوکہ کھانے والا (شوہر)، مہر اور بچوں کی قیمت اس شخص سے وصول کرے گا جس نے اسے دھوکہ دیا۔
حدیث نمبر: 14253
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: قَالَ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي الْوَضِينِ: إِنَّ أَخَوَيْنِ تَزَوَّجَا أُخْتَيْنِ فَأُهْدِيَتْ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا إِلَى أَخِي زَوْجِهَا فَأَصَابَهَا، فَقَضَى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِصَدَاقٍ، وَجَعَلَهُ يَرْجِعُ بِهِ عَلَى الَّذِي غَرَّهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابوالوضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو بھائیوں کی شادی دو بہنوں سے ہو گئی، ان دونوں عورتوں کو دونوں بھائیوں کی جانب سے تحفے بھی ملے اور ان سے مجامعت بھی کی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ہر ایک کے ذمے حقِ مہر ڈال دیا اور فرمایا کہ دھوکا دینے والا شخص یہ ادا کرے گا۔