السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يورد ممرض على مصح فقد يجعل الله تعالى بمشيئته مخالطته إياه سببا لمرضه باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14251
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ ثَلَاثَةً فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْرَصَ وَأَقْرَعَ وَأَعْمَى، أَرَادَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَبْتَلِيَهُمْ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مَلَكًا، فَأَتَى الْأَبْرَصَ فَقَالَ: أِيُّ شَيْءٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ: لَوْنٌ حَسَنٌ وَجِلْدٌ حَسَنٌ، فَقَدْ قَذِرَنِي النَّاسُ، قَالَ: فَمَسَحَهُ فَذَهَبَ عَنْهُ قَذَرُهُ وَأُعْطِيَ لَوْنًا حَسَنًا وَجِلْدًا حَسَنًا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل میں تین شخص تھے: 1 پھلبہری والا، 2 گنجا، 3 نابینا۔ اللہ نے ان کی آزمائش کا ارادہ کیا تو ان کی جانب ایک فرشتہ بھیجا، وہ برص والے کے پاس آیا اور کہا: تجھے کون سی چیز اچھی لگتی ہے؟ اس نے کہا: اچھی رنگت اور اچھی جلد، کیونکہ لوگ مجھے اچھا نہیں خیال کرتے۔ تو فرشتے نے اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا تو بیماری ختم ہو گئی اور اس کو اچھی جلد اور رنگت مل گئی، پھر طویل حدیث ذکر کی۔“