السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يورد ممرض على مصح فقد يجعل الله تعالى بمشيئته مخالطته إياه سببا لمرضه باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14246
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا صَفَرَ، وَاتَّقُوا الْمَجْذُومَ كَمَا يُتَّقَى الْأَسَدُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی الو منحوس ہے اور نہ ہی صفر کا مہینہ منحوس ہے، کوڑھی سے بچو جیسے شیر سے بچا جاتا ہے۔“