السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يورد ممرض على مصح فقد يجعل الله تعالى بمشيئته مخالطته إياه سببا لمرضه باب: اس بیان میں کہ کوئی بیمار (اونٹوں والا) کسی صحت مند (اونٹوں والے) کے پاس نہ آئے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے اس بیمار کے اختلاط کو اس کی بیماری کا سبب بنا سکتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا عَدْوَى، وَلَا صَفَرَ، وَلَا هَامَةَ " قَالَ: فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟ ".حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہے اور کوئی الو منحوس نہیں ہے“، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نے کہا: ان اونٹوں کی کیا حالت ہے جو ہرن کی مانند تندرست ہوتے ہیں، تو خارش زدہ اونٹ ان سے مل کر ان کو بھی خارشی کر دیتا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے؟“ تو زہری کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے مجھے بیان کیا کہ وہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مریض کو تندرست کے پاس نہ لایا جائے“۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا کہ کیا آپ ہمیں بیان نہیں کرتے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”بیماری متعدی نہیں ہوتی اور صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کوئی الو منحوس نہیں ہوتا“، اس نے کہا: میں نے تمہیں بیان نہیں کیا، زہری کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے مجھے کہا کہ اس نے بیان کیا تھا، میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، وہ دوسری حدیث بھول گئے۔