حدیث نمبر: 142
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ يَسْتَاكُ بِسِوَاكٍ بِيَدِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " عَا عَا ". وَالسِّوَاكُ فِي فِيهِ كَأَنَّهُ يَتَهَوَّعُ ".
حافظ ثناء اللہ

(الف) ابن ابی موسیٰ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو میں نے آپ کو اپنے ہاتھ کے ساتھ مسواک کرتے ہوئے پایا اور آپ ﷺ کے منہ مبارک سے «عَاْ عَاْ» کی آواز آرہی تھی۔
عَاْ عَاْ») مسواک کرتے وقت جو آواز نکلتی ہے اور مسواک آپ ﷺ کے منہ میں تھی گویا کہ آپ ﷺ آواز نکال رہے ہیں۔
(ب) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا ایک کنارہ آپ کی زبان پر تھا۔
(ج) صحیح بخاری کی ایک حدیث میں «أُعْ أُعْ» کے الفاظ ہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 142
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري 241»