السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: إتيان النساء في أدبارهن باب: عورتوں کی پچھلی شرم گاہوں (دبر) میں وطی کرنے کے متعلق بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ حَمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا عَمِّي يَعْنِي إِبْرَاهِيمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا جَدِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَمْرٍو مَا تَقُولُ فِي إِتْيَانِ الْمَرْأَةِ فِي دُبُرِهَا؟ فَقَالَ: هَذَا شَيْخٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَسَلْهُ يَعْنِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ لَمْ يَسْمَعْ فِي ذَلِكَ شَيْئًا قَالَ: " اللهُمَّ قَذَرٌ وَلَوْ كَانَ حَلَالًا "، ثُمَّ إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَلِيٍّ لَقِيَ عَمْرَو بْنَ أُحَيْحَةَ بْنِ الْجُلَاحِ فَقَالَ: هَلْ سَمِعْتَ فِي إِتْيَانِ الْمَرْأَةِ فِي دُبُرِهَا شَيْئًا؟ فَقَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ بِشَهَادَةِ رَجُلَيْنِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ بِنَحْوِهِ وَلِعَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ فِيهِ إِسْنَادٌ آخَرُ.محمد بن علی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ کے پاس تھا تو ایک شخص نے آ کر کہا: اے ابو عمرو! عورت کی دبر کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ قریشی شیخ ہیں، آپ ان سے پوچھ لیں، یعنی عبداللہ بن علی بن سائب رحمہ اللہ، وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ نے اس بارے میں کچھ نہیں سنا۔ کہنے لگے: اے اللہ! یہ گندگی ہے، اگرچہ یہ حلال بھی ہو، پھر عبداللہ بن علی کی ملاقات عمرو بن احیحہ بن جلاح سے ہوئی، ان سے پوچھا گیا: کیا آپ نے عورت کی دبر میں آنے کے بارے میں کچھ سن رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، جن کی شہادت رسول اللہ ﷺ نے دو مردوں کے برابر قرار دی، وہ کہتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، پھر باقی حدیث ذکر کی۔