السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: إتيان النساء في أدبارهن باب: عورتوں کی پچھلی شرم گاہوں (دبر) میں وطی کرنے کے متعلق بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُحَيْحَةَ بْنِ الْجُلَاحِ، أَوْ عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانِ بْنِ أُحَيْحَةَ بْنِ الْجُلَاحِ - قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: أَنَا شَكَكْتُ - عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ أَوْ إِتْيَانِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَالٌ "، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ دَعَاهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ: " كَيْفَ قُلْتَ فِي أِيِّ الْخَرِبَتَيْنِ أَوْ فِي أِيِّ الْخَرَزَتَيْنِ أَوْ فِي أِيِّ الْخَصَفَتَيْنِ؟ أَمِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا فَنَعَمْ، أَمَّا مِنْ دُبُرِهَا فِي دُبُرِهَا فَلَا، إِنَّ اللهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: عَمِّي ثِقَةٌ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيٍّ ثِقَةٌ وَقَدْ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ الْمُحَدِّثِ بِهَا أَنَّهُ أَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، وَخُزَيْمَةُ مِمَّنْ لَا يَشُكُّ عَالِمٌ فِي ثِقَتِهِ فَلَسْتُ أُرَخِّصُ فِيهِ بَلْ أَنْهَى عَنْهُ.سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان سے روایت کرنے والے راوی کے نام میں مجھے شک ہوا ہے) کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے عورتوں کی دبر میں آنے یا آدمی کے اپنی بیوی کی دبر میں آنے کے بارے میں سوال کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”حلال ہے“، جب آدمی چلا گیا تو آپ ﷺ نے اسے بلایا یا بلانے کا حکم دیا اور فرمایا: ”تو نے کیا پوچھا تھا؟ دو سوراخوں میں سے کس سوراخ میں؟ اگر دبر کی جانب سے قبل میں ہو تو ہاں، لیکن دبر کی جانب سے دبر میں ہو تو نہیں۔ ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53] اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتے۔ عورتوں کی دبر میں مجامعت نہ کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرے چچا ثقہ ہیں اور عبداللہ بن علی ثقہ ہیں، اور محمد نے مجھے بتایا کہ انہوں نے اس حدیث کو بیان کرنے والے انصاری کی اچھی تعریف کی، اور خزیمہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے ثقہ ہونے میں کسی عالم کو شک نہیں، لہٰذا میں اس کی رخصت نہیں دیتا بلکہ اس سے منع کرتا ہوں۔