السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح أهل الشرك وطلاقهم باب: مشرکین کے نکاح اور ان کی طلاق کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِذَا أَثْبَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَ الشِّرْكِ وَأَقَرَّ أَهْلَهُ عَلَيْهِ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يَجُزْ وَاللهُ أَعْلَمُ إِلَّا أَنْ يَثْبُتَ طَلَاقُ أَهْلِ الشِّرْكِ.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب رسول اللہ ﷺ نے حالتِ شرک کے نکاح کو ثابت (معتبر) مانا اور اسلام (لانے) کے بعد اس کے اہل کو اسی (نکاح) پر برقرار رکھا، تو پھر، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس کے سوا کچھ جائز نہیں کہ اہلِ شرک کی طلاق کو بھی ثابت (معتبر) مانا جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ " أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ، فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا "، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ كَمَا مَضَى أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ بِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ زَنَيَا، فَجَعَلَ نِكَاحَهُمَا يُحْصِنُهُمَا، فَكَيْفَ يَذْهَبُ عَلَيْنَا أَنْ يَكُونَ لَا يُحِلُّهَا وَهُوَ يُحْصِنُهَا.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جاہلیت کے نکاح چار طرح سے ہوتے تھے: ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت کے ولی کو نکاح کا پیغام دیتا ہے، پھر وہ حق مہر ادا کر کے نکاح کر لیتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہودی زانی جوڑے کو رجم کیا، ان کے بعد ان کی شادی کردی تو جب وہ پاک دامن ہو تب شادی کیوں جائز نہیں ہے۔