السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الرجل يسلم وتحته نصرانية باب: اس شخص کا بیان جو اسلام لائے اور اس کے نکاح میں کوئی عیسائی عورت ہو۔
حدیث نمبر: 14074
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، أَنَّ هَانِئَ بْنَ قَبِيصَةَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلَ عَلَى ابْنِ عَوْفٍ وَتَحْتَهُ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ نَصْرَانِيَّاتٍ، فَأَسْلَمَ، وَأَقَرَّهُنَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَهُ قَالَ شُعْبَةُ: وَسَأَلْتُ عَنْهُ بَعْضَ بَنِي شَيْبَانَ فَقَالَ: قَدِ اخْتُلِفَ عَلَيْنَا فِيهِ.حافظ ثناء اللہ
ہانی بن قبیصہ جب مدینہ آئے اور ابن عوف رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرے، ان کے نکاح میں چار عیسائی عورتیں تھیں، وہ اسلام لائے تو ان کے نکاح میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان عورتوں کو برقرار رکھا۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے بعض بنو شیبان سے سوال کیا تو وہ کہنے لگے کہ اس میں اختلاف کیا گیا ہے۔