❮
❯
حدیث نمبر: 14070
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ هَذَا لَا يَثْبُتُ، وَحَجَّاجٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ⦗٣٠٥⦘ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،⦗٣٠٦⦘ وَحَكَى أَبُو عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ أَنَّ حَجَّاجًا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمْرٍو، وَأَنَّهُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَمْرٍو، فَهَذَا وَجْهٌ لَا يَعْبَأُ بِهِ أَحَدٌ يَدْرِي مَا الْحَدِيثُ.
حافظ ثناء اللہ

امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ (روایت) ثابت نہیں ہے، اور حجاج سے حجت نہیں لی جاتی، درست سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
ابو عبید نے یحییٰ بن سعید قطان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ یہ محمد بن عبداللہ عرزمی کی عمرو سے روایت ہے، لہٰذا یہ ایسی سند ہے جس کی طرف حدیث کو سمجھنے والا کوئی شخص توجہ نہیں دیتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 14070