السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ: قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ الْحَافِظُ هَذَا لَا يَثْبُتُ، وَحَجَّاجٌ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ⦗٣٠٥⦘ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ رَحِمَهُ اللهُ، فَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ فِي هَذَا الْبَابِ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،⦗٣٠٦⦘ وَحَكَى أَبُو عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ أَنَّ حَجَّاجًا لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عَمْرٍو، وَأَنَّهُ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْعَرْزَمِيِّ، عَنْ عَمْرٍو، فَهَذَا وَجْهٌ لَا يَعْبَأُ بِهِ أَحَدٌ يَدْرِي مَا الْحَدِيثُ.امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ (روایت) ثابت نہیں ہے، اور حجاج سے حجت نہیں لی جاتی، درست سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث ہے۔
امام ابو عیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے اس کے بارے میں امام بخاری رحمہ اللہ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس باب میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث عمرو بن شعیب کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔
ابو عبید نے یحییٰ بن سعید قطان سے نقل کیا ہے کہ حجاج نے یہ روایت عمرو سے نہیں سنی، بلکہ یہ محمد بن عبداللہ عرزمی کی عمرو سے روایت ہے، لہٰذا یہ ایسی سند ہے جس کی طرف حدیث کو سمجھنے والا کوئی شخص توجہ نہیں دیتا۔