السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من قال: لا ينفسخ النكاح بينهما بإسلام أحدهما، إذا كانت مدخولا بها حتى تنقضي عدتها قبل إسلام المتخلف منهما باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ جب ان میں خلوتِ صحیحہ ہو چکی ہو تو ان میں سے کسی ایک کے اسلام لانے سے ان کے درمیان نکاح اس وقت تک فسخ نہیں ہوتا جب تک کہ پیچھے رہ جانے والے کے اسلام لانے سے قبل عورت کی عدت پوری نہ ہو جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو نَصْرٍ مَنْصُورُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُفَسِّرُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةُ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: فَحَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَلَى النِّكَاحِ الْأَوَّلِ بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ. لَفْظُ حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ خَالِدٍ، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ، وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَهَذَا لِأَنَّ بِإِسْلَامِهَا ثُمَّ بِهِجْرَتِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ، وَامْتِنَاعِ أَبِي الْعَاصِ مِنَ الْإِسْلَامِ لَمْ يَتَوَقَّفْ نِكَاحُهَا عَلَى انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ التَّحْرِيمِ لِِلْمُسْلِمَاتِ عَلَى الْمُشْرِكِينَ بَعْدَ صُلْحِ الْحُدَيْبِيَةِ، ثُمَّ بَعْدَ نُزُولِهَا تَوَقَّفَ نِكَاحُهَا عَلَى انْقِضَاءِ عِدَّتِهَا، فَلَمْ تَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَخَذَ أَبُو بَصِيرٍ وَغَيْرُهُ أَبَا الْعَاصِ أَسِيرًا وَبَعَثَ بِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَأَجَارَتْهُ زَيْنَبُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَّةَ وَرَدَّ مَا كَانَ عِنْدَهُ مِنَ الْوَدَائِعِ وَأَظْهَرَ إِسْلَامَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَيْنَ تَوَقُّفِ نِكَاحِهَا عَلَى انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ وَبَيْنَ إِسْلَامِهِ إِلَّا الْيَسِيرُ.عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے پہلے نکاح میں چھ برس کے بعد لوٹا دیا۔ یونس کی روایت میں ہے کہ پہلے نکاح میں چھ برس کے بعد کوئی نیا کام (نکاحِ جدید) نہیں ہوا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا اسلام لانا اور مدینہ کی طرف آنا، لیکن ابو العاص کا اسلام سے رک جانا، عدت کے ختم ہونے پر موقوف نہ تھا۔ لیکن جب صلحِ حدیبیہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ مسلمان عورتیں مشرکوں پر حرام ہیں: ﴿لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ﴾ [سورة الممتحنة: 10]، اس آیت کے نزول کے بعد عدت کے ختم ہونے پر نکاح کو موقوف رکھا گیا؛ تھوڑی مدت ہی گزری تھی کہ ابو بصیر وغیرہ نے ابو العاص کو قیدی بنا کر مدینہ روانہ کر دیا تو سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے انہیں پناہ دے دی۔ پھر انہوں نے مکہ لوٹ کر تمام امانتیں واپس کرنے کے بعد اسلام کا اظہار کر دیا تو ان کے نکاح کو عدت کے ختم ہونے اور اسلام لانے پر موقوف نہ رکھا گیا۔