حدیث نمبر: 1405
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ دَخَلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ الْمَسْجِدَ فَعَرَضَ لَهُ عُمَرُ فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ يَتَأَخَّرُونَ بَعْدَ النِّدَاءِ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا زِدْتُ حِينَ سَمِعْتُ النِّدَاءَ أَنْ تَوَضَّأْتُ ثُمَّ أَقْبَلَتُ، فَقَالَ عُمَرُ.: الْوُضُوءُ أَيْضًا؟ أَوَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: فَلَمَّا لَمْ يَتْرُكْ عُثْمَانُ الصَّلَاةَ لِلْغُسْلِ وَلَمْ يَأْمُرْهُ عُمَرُ بِالْخُرُوجِ لِلْغُسْلِ دَلَّ ذَلِكَ عَلَى أَنَّهُمَا قَدْ عِلَمَا أَنَّ أَمْرَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُسْلِ عَلَى الِاخْتِيَارِ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں متوجہ کرتے ہوئے کہا: ان آدمیوں کا کیا حال ہے جو اذان کے بعد آتے ہیں؟ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! جب میں نے اذان سنی تو صرف وضو کیا اور مسجد میں آگیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صرف وضو؟ کیا تو نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ”جب کوئی جمعہ کو آئے تو وہ غسل کرے۔“ (ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے غسل کے لیے نماز نہیں چھوڑی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل کے لیے باہر جانے کا حکم نہیں دیا، یہ اس بات پر دلیل ہے کہ دونوں کے علم میں تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا حکم اختیاری ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1405
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»