حدیث نمبر: 1404
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنُ بَالَوَيْهِ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ مَالِكٍ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، بَيْنَا هُوَ قَائِمٌ لِلْخُطْبَةِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَنَادَاهُ عُمَرُ أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي شُغِلْتُ الْيَوْمَ فَلَمْ أَنْقَلِبْ إِلَى أَهْلِي حَتَّى سَمِعْتُ التَّأْذِينَ فَلَمْ أَزِدْ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ قَالَ عُمَرُ: الْوُضُوءُ أَيْضًا؟ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْغُسْلِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ وَهَكَذَا حَدِيثٌ أَرْسَلَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ فِي الْمُوَطَّأِ فَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ فِي إِسْنَادِهِ وَوَصَلَهُ خَارِجَ الْمُوَطَّأِ وَالْمَوْصُولُ صَحِيحٌ فَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ وَمَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ مَوْصُولًا وَثَبَتَ ذَلِكَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ

(الف) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک اولین مہاجرین میں سے ایک شخص آیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو آواز دی: ”یہ کون سا وقت ہے؟“ اس نے کہا: آج میں مصروف رہا اور میں اپنے گھر نہیں جا سکا، جب میں نے اذان سنی تو میں وضو کرنے سے زیادہ کچھ نہ کر سکا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”صرف وضو؟ حالانکہ تو جانتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔“ (ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے عبداللہ بن اسماء سے یہ روایت بیان کی ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے مؤطا میں مرسل نقل کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا سند میں ذکر نہیں کیا۔ مؤطا کے علاوہ دیگر کتب میں یہ موصولاً بیان کی گئی ہے اور یہی صحیح ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ سے بھی یہ موصولاً منقول ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الطهارة / حدیث: 1404
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»