السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب الخطبة -- باب: التعريض بالخطبة باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں منگنی (پیغامِ نکاح) کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: اشارے کنائے میں نکاح کا پیغام دینے کے متعلق بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: بَلَغَنَا وَاللهُ أَعْلَمُ أَنَّ مَعْنَى: {لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا} [البقرة: ٢٣٥] " الرَّفَثُ مِنَ الْكَلَامِ أَيْ لَا يُوَاجِهُهَا الرَّجُلُ فِي تَعْرِيضِ الْجِمَاعِ مِنْ نَفْسِهِ وَيَقُولُ آخَرُونَ: هُوَ الزِّنَا وَاللهُ أَعْلَمُ "، وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ فِي التَّعْرِيضِ: يُرْسِلُ إِلَيْهَا فِي عِدَّتِهَا يَقُولُ: إِنِّي فِيكِ لَرَاغِبٌ وَإِنِّي عَلَيْكِ لَحَرِيصٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُعْلِمَكِ فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ رَأَيْتُ رَأْيَكِ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: يُعَرِّضُ فَلَا يَبُوحُ، يَقُولُ: إِنَّ لِي حَاجَةً وَأَبْشِرِي فَأَنْتِ بِحَمْدِ اللهِ ⦗٢٩١⦘ نَافِقَةٌ، وَتَقُولُ هِيَ: قَدْ أَسْمَعُ مَا تَقُولُ، وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: إِنْ وَاعَدَتْ رَجُلًا فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ نَكَحَهَا بَعْدُ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا.مقاتل بن حیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿وَلَكِنْ لَا تُوَاعِدُوهُنَّ سِرًّا﴾ [سورة البقرة: 235] سے مراد بےہودہ کلام ہے، یعنی مرد اس کے سامنے اپنی طرف سے جماع کا اشارہ نہ کرے اور دوسرے کہتے ہیں کہ زنا مراد ہے۔
(ب) حضرت حسن رحمہ اللہ عدت کے اندر عورت کو نکاح کا اشارہ دینے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ اس کی طرف پیغام بھیجے اور کہے: میں تیرے بارے میں رغبت رکھتا ہوں، میں تیرے لیے حریص ہوں، میں نے چاہا کہ تجھے بتا دوں، جب تیری عدت ختم ہو جائے تو جو تیری رائے ہو۔ حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ اشارہ کرے، ظاہر نہ کرے۔ وہ کہے: مجھے بھی ضرورت ہے، تو خوش ہو جا، تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ بہت پسند کی جانے والی ہے، وہ کہہ دیتی ہے: میں نے سن لیا جو تو نے کہہ دیا، حضرت عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: اگر اس نے کسی مرد کو عدت کے اندر وعدہ دے دیا، پھر نکاح کر لیا تو دونوں میں تفریق نہ کی جائے گی۔ [حسن]