السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من زعم أن نكاح الحرة على الأمة طلاق الأمة باب: اس شخص کا قول جس کا گمان ہے کہ لونڈی کی موجودگی میں آزاد عورت سے نکاح کرنا لونڈی کو طلاق دینے کے مترادف ہے۔
حدیث نمبر: 14009
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الْحُرُّ عَلَى الْأَمَةِ، فَهُوَ طَلَاقُ الْأَمَةِ هُوَ كَصَاحِبِ الْمَيْتَةِ يَأْكُلُ مِنْهَا مَا اضْطُرَّ إِلَيْهَا فَإِذَا اسْتَغْنَى عَنْهَا فَلْيُمْسِكْ "، نَحْنُ إِنَّمَا نَقُولُ بِمَا رُوِّينَا فِي ذَلِكَ عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسروق رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب آپ لونڈی کے ہوتے ہوئے آزاد عورت سے نکاح کریں تو یہ لونڈی کی طلاق ہے، یہ مردار کی مانند ہے جس کو مجبوری کے وقت کھایا جاتا ہے۔ جب وہ اس سے مستغنی ہو جائے تو رک جائے۔ یہ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ سیدنا علی اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے یہی منقول ہے۔