السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في نكاح إماء المسلمين باب: مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13996
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ: سَأَلَ عَطَاءٌ، أَبَا الشَّعْثَاءِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ نِكَاحِ الْأَمَةِ مَا تَقُولُ فِيهِ أَجَائِزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: " لَا يَصْلُحُ الْيَوْمَ نِكَاحُ الْإِمَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
عطاء رحمہ اللہ نے ابو شعثاء رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ کیا لونڈی سے نکاح جائز ہے؟ میں اس کے بارے میں سننا چاہتا ہوں، کہنے لگے: آج کے زمانے میں لونڈیوں سے نکاح جائز نہیں ہے۔