السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13984
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " تَزَوَّجَ طَلْحَةُ يَهُودِيَّةً ".حافظ ثناء اللہ
ہبیرہ بن یریم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(ب) ابو وائل فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا کہ اس کو جدا کر دے، فرمانے لگے: مجھے ڈر ہے کہ تم مسلمان عورتوں کو چھوڑ کر زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے کراہت کی بنا پر تھا۔ ایک دوسری روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے لکھا: کیا یہ حرام ہے؟ فرمانے لگے کہ مجھے خوف ہے کہ تم زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔