حدیث نمبر: 13984
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " تَزَوَّجَ طَلْحَةُ يَهُودِيَّةً ".
حافظ ثناء اللہ

ہبیرہ بن یریم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔
(ب) ابو وائل فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو خط لکھا کہ اس کو جدا کر دے، فرمانے لگے: مجھے ڈر ہے کہ تم مسلمان عورتوں کو چھوڑ کر زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی جانب سے کراہت کی بنا پر تھا۔ ایک دوسری روایت ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے لکھا: کیا یہ حرام ہے؟ فرمانے لگے کہ مجھے خوف ہے کہ تم زانیہ عورتوں سے نکاح کرو۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13984
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»