السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13980
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُ عَنْ نِكَاحِ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ، فَقَالَ: تَزَوَّجْنَاهُنَّ زَمَنَ الْفَتْحِ بِالْكُوفَةِ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَنَحْنُ لَا نَكَادُ نَجِدُ الْمُسْلِمَاتِ كَثِيرًا، فَلَمَّا رَجَعْنَا طَلَّقْنَاهُنَّ، وَقَالَ " لَا يَرِثْنَ مُسْلِمًا، وَلَا يَرِثُهُنَّ، وَنِسَاءُهُمْ لَنَا حِلٌّ، وَنِسَاءُنَا عَلَيْهِمْ حَرَامٌ ".حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا جب سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ مسلمان کا نکاح یہودیہ یا عیسائی عورت سے کرنے کا کیا حکم ہے؟ (سائل نے کہا) کہ ہم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ فتح کے وقت کوفہ میں ان سے شادی کی اور ہم ان کے قریب نہ جاتے تھے، ہمیں مسلمان عورتیں زیادہ میسر نہ تھیں اور جب ہم واپس پلٹے تو ہم نے ان کو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ عورتیں مسلمان کی وارث نہ ہوں گی اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوں گے، اور ان کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں جبکہ ہماری عورتیں ان کے لیے حرام ہیں۔“