حدیث نمبر: 13980
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُ عَنْ نِكَاحِ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ، فَقَالَ: تَزَوَّجْنَاهُنَّ زَمَنَ الْفَتْحِ بِالْكُوفَةِ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَنَحْنُ لَا نَكَادُ نَجِدُ الْمُسْلِمَاتِ كَثِيرًا، فَلَمَّا رَجَعْنَا طَلَّقْنَاهُنَّ، وَقَالَ " لَا يَرِثْنَ مُسْلِمًا، وَلَا يَرِثُهُنَّ، وَنِسَاءُهُمْ لَنَا حِلٌّ، وَنِسَاءُنَا عَلَيْهِمْ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا جب سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ مسلمان کا نکاح یہودیہ یا عیسائی عورت سے کرنے کا کیا حکم ہے؟ (سائل نے کہا) کہ ہم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ فتح کے وقت کوفہ میں ان سے شادی کی اور ہم ان کے قریب نہ جاتے تھے، ہمیں مسلمان عورتیں زیادہ میسر نہ تھیں اور جب ہم واپس پلٹے تو ہم نے ان کو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ عورتیں مسلمان کی وارث نہ ہوں گی اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوں گے، اور ان کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں جبکہ ہماری عورتیں ان کے لیے حرام ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13980
درجۂ حدیث محدثین: اخرجه الشافعي، في الام 4/8
تخریج حدیث «اخرجه الشافعي، في الام 4/8»