السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13976
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ} [البقرة: ٢٢١] " ثُمَّ اسْتَثْنَى نِسَاءَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَالَ: {وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الذِّينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [المائدة: ٥] حِلٌّ لَكُمْ {إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [المائدة: ٥]، يَعْنِي مُهُورَهُنَّ {مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ} [النساء: ٢٥]، يَقُولُ: عَفَائِفَ غَيْرَ زَوَانٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكٰتِ حَتّٰى يُؤْمِنَّ﴾ [سورة البقرة: 221] ”اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک وہ ایمان لائیں۔“ کے متعلق روایت ہے کہ پھر اہل کتاب کی عورتوں کا استثناء کر دیا گیا۔ فرمایا: ﴿وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 5] ”اور تم سے پہلے اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں۔“ ﴿اِذَا اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ﴾ یعنی ان کے حق مہر دو: ﴿مُحْصِنِيْنَ غَيْرَ مُسٰفِحِيْنَ﴾ ”پاک دامنہ ہوں زانی نہیں۔“