السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في قوله عز وجل: والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور شوہر دار عورتیں (بھی تم پر حرام ہیں) سوائے ان کے جو تمہاری ملکِ یمین میں آ جائیں“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: " وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ هُنَّ ذَوَاتُ الْأَزْوَاجِ، وَيَرْجِعُ ذَلِكَ إِلَى أَنَّ اللهَ حَرَّمَ الزِّنَا "، وَاسْتَدَلَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي أَنَّ ذَوَاتِ الْأَزْوَاجِ مِنَ الْإِمَاءِ يَحْرُمْنَ عَلَى غَيْرِ أَزْوَاجِهِنَّ، وَأَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ فِي قَوْلِهِ {إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ} [النساء: ٢٤] مَقْصُورٌ عَلَى السَّبَايَا، بِأَنَّ السُّنَّةَ دَلَّتْ عَلَى أَنَّ الْمَمْلُوكَةَ غَيْرَ الْمَسْبِيَّةِ، إِذَا بِيعَتْ أَوْ أُعْتِقَتْ لَمْ يَكُنْ بَيْعُهَا طَلَاقًا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ بَرِيرَةَ حِينَ عَتَقَتْ فِي الْمُقَامِ مَعَ زَوْجِهَا وَفِرَاقِهِ، وَقَدْ زَالَ مِلْكُ بَرِيرَةَ بِأَنْ بِيعَتْ، فَأُعْتِقَتْ فَكَانَ زَوَالُهُ لِمَعْنَيَيْنِ وَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ فُرْقَةً قَالَ: فَإِذَا لَمْ يَحِلَّ فَرْجُ ذَوَاتِ الزَّوْجِ بِزَوَالِ الْمِلْكِ، فَهِيَ إِذَا لَمْ تُبَعْ لَمْ تَحِلَّ بِمِلْكِ يَمِينٍ حَتَّى يُطَلِّقَهَا زَوْجُهَا قَالَ فِي الْقَدِيمِ: وَمِمَّنْ قَالَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ تعالى عَنْهُمْ، قَالُوا: نِكَاحُ الزَّوْجِ بَعْدَ الشِّرَاءِ ثَابِتٌ قَالَ: وَمِمَّنْ قَالَ بَيْعُ الْأَمَةِ طَلَاقُهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، وَجَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، وَابْنُ عَبَّاسٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَأَّنَهُمْ قَاسُوهَا عَلَى الْمَسْبِيَّةِ، وَحَدِيثُ بَرِيرَةَ يَمْنَعُ مِنْ هَذَا الْقِيَاسِ، ثُمَّ الْإِجْمَاعُ أَنَّ مَنْ زَوَّجَ أَمَتَهُ لَمْ يَمْلِكْ وَطْئَهَا وَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ.سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [سورة النساء: 24] سے مراد خاوندوں والی لونڈیاں ہیں۔
نوٹ: اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوندوں والی لونڈیاں بھی اپنے خاوندوں کے علاوہ دوسروں پر حرام ہیں اور یہ جو استثناء ہے ﴿إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [سورة النساء: 24] یہ صرف قیدی عورتوں کے ساتھ خاص ہے؛ کیونکہ غیر قیدی عورت جب اس کو فروخت یا آزاد کیا جائے تو اس کو فروخت کرنا اس کی طلاق نہیں ہوتی؛ کیونکہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو نبی ﷺ نے اپنے خاوند کے ساتھ رہنے یا جدا ہونے کا اختیار دیا جب وہ آزاد ہوئیں۔ بریرہ کی ملک زائل ہوئی، فروخت یا آزادی کی وجہ سے اس کا زائل ہونا دو طرح تھا، لیکن یہ جدائی نہ تھی۔ جب خاوند والی کی شرمگاہ ملک کے زائل ہونے کی وجہ سے حلال نہیں ہوئی یہ فروخت نہ کی گئی۔ یہ ملکیت بننے کی وجہ سے بھی حلال نہ ہوگی، جب تک اس کا خاوند طلاق نہ دے۔ یہ موقف سیدنا عمر بن خطاب، عثمان بن عفان، علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کا تھا کہ فروخت ہونے کے بعد بھی خاوند کا نکاح باقی رہتا ہے۔
اور جو کہتے ہیں کہ لونڈی کو فروخت کر دینا اس کی طلاق ہے، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود، ابی بن کعب، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: انہوں نے قیدی عورت پر قیاس کیا ہے اور حدیثِ بریرہ اس قیاس کو روکتی ہے۔ پھر اجماع ہے کہ جس نے اپنی لونڈی کی شادی کر دی، وہ اس کی وطی کا مالک نہیں ہے اور یہ اس کی ہے جس کی ملکیت ہے۔