السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: من يحل الجمع بين امرأة الرجل وبنته باب: ان صورتوں کا بیان جن میں کسی شخص کی بیوی اور اس (کی دوسری بیوی) کی بیٹی کو (نکاح میں) جمع کرنا حلال ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ قُثَمٍ مَوْلَى آلِ الْعَبَّاسِ قَالَ: جَمَعَ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ بَيْنَ لَيْلَى بِنْتِ مَسْعُودٍ النَّهْشَلِيَّةِ، وَكَانَتِ امْرَأَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَبَيْنَ أُمِّ كُلْثُومِ بِنْتِ عَلِيٍّ لِفَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَكَانَتَا امْرَأَتَيْهِ "، وَيُذْكَرُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مِصْرَ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ يُقَالُ لَهُ جَبَلَةُ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةِ رَجُلٍ وَابْنَتِهِ مِنْ غَيْرِهَا، ⦗٢٧١⦘ وَعَنْ أَيُّوبَ أَنَّهُ قَالَ: نُبِّئْتُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ قَرْحَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ بَيْنَ امْرَأَةِ رَجُلٍ وَابْنَتِهِ مِنْ غَيْرِهَا.قثم مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے لیلیٰ بنت مسعود نہشلیہ جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھی اور ام کلثوم جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے، دونوں کو اپنے نکاح میں رکھا۔
(ب) محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل مصر کا ایک شخص جس کو جبلہ کہا جاتا تھا اور وہ صحابی رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور بیٹی کو ایک نکاح میں رکھا جو کسی دوسری بیوی سے تھی۔
(ج) ایوب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعد بن قرحا رضی اللہ عنہ جو نبی ﷺ کے صحابی ہیں، انہوں نے ایک شخص کی بیوی اور اس کی بیٹی جو کسی دوسری بیوی سے تھی، دونوں کو ایک نکاح میں جمع کیا۔