السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في تحريم الجمع بين الأختين، وبين المرأة، وابنتها في الوطء بملك اليمين باب: ملکِ یمین (حقِ ملکیت) کے ذریعے وطی کرنے میں دو بہنوں کو، اور ماں بیٹی کو ایک ساتھ جمع کرنے کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13928
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ أَبِي الْأَخْضَرِ، عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ " كَرِهَ مِنَ الْإِمَاءِ، مَا كَرِهَ مِنَ الْحَرَائِرِ إِلَّا الْعَدَدَ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهَذَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ إِنْ شَاءَ اللهُ فِي مَعْنَى الْقُرْآنِ وَبِهِ نَأْخُذُ.حافظ ثناء اللہ
ابواخضر حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ لونڈیوں کے بارے میں بھی اسی چیز کو مکروہ خیال کرتے تھے، جسے آزاد عورتوں کے بارے میں ناپسند کرتے تھے (یعنی رشتہ قائم کرنے میں) سوائے مخصوص تعداد کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ عمار رضی اللہ عنہ کا قول قرآن کے موافق ہے اور ہم بھی اسی پر عمل کرتے ہیں۔