السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في معنى الدخول المشروط في تحريم الربيبة، ومن لمس جاريته، فأراد ابنه أن يقربها بعد ما ملكها باب: ربیبہ (سوتیلی بیٹی) کی حرمت میں شرط قرار دی گئی خلوتِ صحیحہ (دخول) کے معنی کا بیان، اور اس شخص کا بیان جس نے اپنی لونڈی کو چھوا، پھر اس کے بیٹے نے اس کی ملکیت حاصل کرنے کے بعد اس کے پاس جانے کا ارادہ کیا۔
حدیث نمبر: 13922
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ أَبَا نَهْشَلٍ الْأَسْوَدَ قَالَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: " إِنِّي رَأَيْتُ جَارِيَةً لِي مُنْكَشِفًا عَنْهَا وَهِيَ فِي الْقَمَرِ، فَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ، فَلَمْ أَمَسَّهَا، فَأَهَبُهَا لِابْنِي يَطَؤُهَا؟ " فَنَهَاهُ الْقَاسِمُ عَنْ ذَلِكَ ".حافظ ثناء اللہ
ابو نہشل اسود نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے کہا کہ میں نے اپنی لونڈی کو دیکھا کہ اس کا کپڑا ہٹا ہوا تھا اور چاندنی رات تھی، تو میں اس کے ساتھ اس طرح بیٹھا جیسے مرد اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھتا ہے۔ اس نے کہا: ”میں حائضہ ہوں۔“ میں نے مجامعت نہ کی، میں نے اسے اپنے بیٹے کو ہبہ کر دی، وہ اس سے مجامعت کر سکتا ہے؟ تو قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے اس سے منع فرما دیا۔