السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نسخ التبني وإباحة نكاح امرأة فارقها من تبناه أو ابنة من كان في الدين أخاه باب: منہ بولا بیٹا بنانے کی رسم کے منسوخ ہونے کا بیان، اور اس عورت سے نکاح کے مباح ہونے کا بیان جسے لے پالک بیٹے نے چھوڑ دیا ہو، یا اس شخص کی بیٹی سے نکاح کے مباح ہونے کا بیان جو اس کا دینی بھائی ہو۔
حدیث نمبر: 13914
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ مُعَلَّى بْنَ أَسَدٍ، حَدَّثَهُمْ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارُ، أنبأ مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ " زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ⦗٢٦١⦘ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ {ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللهِ} [الأحزاب: ٥] "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ أَسَدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ مُوسَى.حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ زید بن حارثہ نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، ہم انہیں ”زید بن محمد“ کہہ کر پکارا کرتے تھے یہاں تک کہ قرآن نازل ہو گیا: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ﴾ [سورة الأحزاب: 5] ”ان کو ان کے باپوں کے نام سے پکارو، یہ زیادہ انصاف کی بات ہے۔“