السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب ما يحرم من نكاح الحرائر وما يحل منه ومن الإماء والجمع بينهن وغير ذلك -- باب: ما يحرم من نكاح القرابة والرضاع وغيرهما باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں آزاد عورتوں کے نکاح میں سے جو حرام ہے اور جو حلال ہے، اور لونڈیوں کے متعلق، نیز انہیں ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: نسبی قرابت، رضاعت اور دیگر وجوہات کی بنا پر حرام ہونے والے رشتوں کے نکاح کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا وَأَنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَاهُ فُلَانًا " لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ دَخَلَ عَلَيَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَعَمْ إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.عمرہ بنت عبدالرحمن کہتی ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تھے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک شخص کی آواز سنی، جو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر آنے کی اجازت طلب کر رہا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اے اللہ کے رسول! یہ شخص آپ کے گھر داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ حفصہ کے رضاعی چچا ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر فلاں شخص زندہ ہوتا جو ان کا رضاعی چچا تھا، کیا وہ میرے گھر داخل ہوتا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، کیونکہ رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے ہوتے ہیں۔“