السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب ما يحرم من نكاح الحرائر وما يحل منه ومن الإماء والجمع بينهن وغير ذلك -- باب: ما يحرم من نكاح القرابة والرضاع وغيرهما باب: یہ جامع ابواب ہیں جن میں آزاد عورتوں کے نکاح میں سے جو حرام ہے اور جو حلال ہے، اور لونڈیوں کے متعلق، نیز انہیں ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنے اور دیگر متعلقہ امور کا بیان ہے۔ -- باب: نسبی قرابت، رضاعت اور دیگر وجوہات کی بنا پر حرام ہونے والے رشتوں کے نکاح کا بیان۔
حدیث نمبر: 13900
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الضَّبِّيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " سَبْعٌ صِهْرٌ، وَسَبْعٌ نَسَبٌ، وَيَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ ".حافظ ثناء اللہ
حیان بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”سات رشتے سسرال اور سات ہی نسب کی وجہ سے حرام ہیں اور رضاعت سے بھی وہ رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔“