السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا عدة على الزانية ومن تزوج امرأة حبلى من زنا لم يفسخ النكاح باب: اس بیان میں کہ زانی عورت پر کوئی عدت نہیں ہے اور جو شخص زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کر لے تو اس کا نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13894
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْزَةَ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ " رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَلَمَّا أَصَابَهَا وَجَدَهَا حُبْلَى، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَجَعَلَ لَهَا الصَّدَاقَ وَجَلَدَهَا مِائَةً "، هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ وَقَدْ مَضَتِ الدَّلَالَةُ عَلَى جَوَازِ نِكَاحِ الزَّانِيَةِ الْمُسْلِمَةِ وَأَنَّهُ لَا يُفْسَخُ بِالزِّنَا، وَإِنَّمَا جَعَلَ اللهُ تَعَالَى الْعِدَّةَ فِي النِّكَاحِ، وَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الِاسْتِبْرَاءَ مِنَ الْمِلْكِ، وَأَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ عَلَى أَنَّ وَلَدَ الزِّنَا مِنَ الْحُرَّةِ يَكُونُ حُرًّا، فَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ إِنْ كَانَ صَحِيحًا مَنْسُوخًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عورت سے شادی کی، جب اس پر داخل ہوا تو اس کو حاملہ پایا۔ یہ معاملہ نبی ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو آپ ﷺ نے ”جدائی کروا دی اور عورت کے لیے حقِ مہر رکھا اور سو کوڑے مارے۔“
نوٹ: مسلم زانیہ سے نکاح جائز ہے، زنا کی وجہ سے فسخ نہ ہوگا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے نکاح میں عدت رکھی ہے اور نبی ﷺ نے صرف استبراءِ رحم کی شرط کی ہے اور اہل علم کا اجماع ہے کہ آزاد کا ولد الزنا بھی آزاد ہی ہوتا ہے۔ وہ اس حدیث کے مشابہ ہے اگر صحیح ہے تو منسوخ ہے۔ واللہ اعلم۔