السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا عدة على الزانية ومن تزوج امرأة حبلى من زنا لم يفسخ النكاح باب: اس بیان میں کہ زانی عورت پر کوئی عدت نہیں ہے اور جو شخص زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کر لے تو اس کا نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 13893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ بَصْرَةُ بْنُ أَكْثَمَ نَكَحَ امْرَأَةً فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، زَادَ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَحَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ أَتَمُّ.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص کو بصرہ کہا جاتا تھا، اس نے ایک عورت سے نکاح کر لیا، اس کے ہم معنیٰ ذکر کیا اور کچھ زیادہ کیا ہے کہ ان دونوں کے درمیان تفریق ڈال دی۔