السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا عدة على الزانية ومن تزوج امرأة حبلى من زنا لم يفسخ النكاح باب: اس بیان میں کہ زانی عورت پر کوئی عدت نہیں ہے اور جو شخص زنا سے حاملہ عورت سے نکاح کر لے تو اس کا نکاح فسخ نہیں کیا جائے گا۔
اسْتِدْلَالًا بِمَا رَوَيْنَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ "، فَلَمْ يَجْعَلْ لِمَاءِ الْعَاهِرِ حُرْمَةً.اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے جو ہم نے سیدہ عائشہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ثابت حدیث میں روایت کی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بچہ بستر (والے شوہر) کا ہے، اور زانی کے لیے پتھر (محرومی) ہے۔“
چنانچہ آپ ﷺ نے زانی کے پانی (نطفے) کو کوئی حرمت (احترام) نہیں دی۔
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ الْعَسْقَلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ بَصْرَةُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً بِكْرًا فِي سِتْرِهَا، فَدَخَلْتُ عَلَيْهَا، فَإِذَا هِيَ حُبْلَى، فَقَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَهَا الصَّدَاقُ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَالْوَلَدُ عَبْدٌ لَكَ، فَإِذَا وَلَدَتْ فَاجْلِدُوهَا "، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: فَهَذَا الْحَدِيثُ، إِنَّمَا أَخَذَهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي يَحْيَى، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، وَإِبْرَاهِيمُ مُخْتَلَفٌ فِي عَدَالَتِهِ..سعید بن مسیب رحمہ اللہ ایک انصاری صحابی سے نقل فرماتے ہیں جن کا نام بصرہ رضی اللہ عنہ تھا، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک کنواری عورت سے اس کے حجاب میں نکاح کر لیا، جب میں اس پر داخل ہوا تو وہ حاملہ تھی، مجھے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تیرے ذمہ حق مہر ہے جو تو نے اس کی شرمگاہ کو حلال سمجھا اور بچہ تیرا غلام ہوگا اور جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے کوڑے مارو۔“