حدیث نمبر: 13880
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَرَجَ عَلَيْهِمَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، وَقَدْ كَانَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ: " إِنَّهَا كَانَتْ حَسَنَةً هَمَمْتُ بِهَا، وَأَنَا قَاضِيهَا يَوْمًا آخَرَ، وَرَأَيْتُ جَارِيَةً لِي فَأَعْجَبَتْنِي فَغَشِيتُهَا أَمَا إِنِّي أَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغَتْ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَصِّنَهَا "، ⦗٢٥٢⦘ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ: " اعْلَمْ أَنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ مِنْهُمَا جَمِيعًا كَمَا يَقْبَلُ مِنْهُمَا وَهُمَا مُتَفَرِّقَانِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِنْ لَمْ تَنْفَعْهُمَا تَوْبَتُهُمَا جَمِيعًا لَمْ تَنْفَعْهُمَا وَهُمَا مُتَفَرِّقَانِ قَالَ: وَقَرَأَ {إِنَّ اللهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ} ".
حافظ ثناء اللہ

سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، اس نے ان کو بیان کیا کہ وہ روزہ دار تھے، کہتے ہیں: ”میں نے ایک خوبصورت عورت کا قصد کیا اور میں دوسرے دن اس کا فیصلہ کرنے والا تھا۔ میں نے اپنی خوبصورت لونڈی دیکھی تو اس سے مجامعت کر لی۔“ کہتے ہیں: ”میں تمہیں مزید بیان کرنا چاہتا ہوں وہ زانیہ تھی، میں اس کو پاک دامن بنانا چاہتا تھا۔“
(ب) ابو مجلز رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کی توبہ قبول فرما لیں گے جیسے ان دونوں کی الگ الگ توبہ قبول فرماتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو اکٹھے توبہ نفع نہ دے گی تو الگ الگ بھی نفع نہ دیتی اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ [سورة التوبة: 104] ”اللہ اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتے ہیں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13880
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»