السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على قصر الآية على ما نزلت فيه أو نسخها باب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 13878
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا بَعْدُ قَالَ: " كَانَ أَوَّلَهُ سِفَاحٌ، وَآخِرَهُ نِكَاحٌ، وَأَوَّلَهُ حَرَامٌ، وَآخِرَهُ حَلَالٌ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا جو کسی عورت سے زنا کرتا ہے پھر اس سے شادی کر لیتا ہے، فرمانے لگے: پہلا زنا تھا اور دوسرا نکاح ہے اور پہلا حرام تھا اور دوسرا حلال ہے۔
(ب) قتادہ رحمہ اللہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما، سعید بن مسیب رحمہ اللہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں نقل کیا جو کسی عورت سے زنا کرنے کے بعد شادی کر لیتا ہے، ان سب نے فرمایا: کوئی حرج نہیں، جب وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اور اپنی حالت کو ناپسند کریں۔