السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على قصر الآية على ما نزلت فيه أو نسخها باب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 13872
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ مَوْلًى لِبَنِي هَاشِمٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ امْرَأَتِي لَا تَمْنَعُ يَدَ لَامِسٍ " قَالَ: " طَلِّقْهَا " قَالَ: إِنَّهَا تُعْجِبُنِي قَالَ: " تَمَتَّعْ بِهَا ".حافظ ثناء اللہ
ابو زبیر بنو ہاشم کے غلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر کہا کہ میری عورت چھونے والے ہاتھ کو واپس نہیں کرتی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ کہنے لگا: مجھے اچھی لگتی ہے، فرمایا: ”اس سے فائدہ اٹھاؤ۔“