السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يستدل به على قصر الآية على ما نزلت فيه أو نسخها باب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
حدیث نمبر: 13870
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الْعُقَيْلِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهَارُونُ بْنُ رِئَابٍ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ حَمَّادٌ: قَالَ أَحَدُهُمَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَجُلًا قَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدِي بِنْتَ عَمٍّ لِي جَمِيلَةً، وَأَنَّهَا لَا تَرُدُّ يَدَ لَامِسٍ قَالَ: " طَلِّقْهَا " قَالَ: لَا أَصْبِرُ عَنْهَا قَالَ: " فَأَمْسِكْهَا إِذًا "، وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ مُرْسَلًا.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نکاح میں میرے چچا کی خوبصورت بیٹی ہے، لیکن وہ کسی چھونے والے کے ہاتھ رد نہیں کرتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق دے دو۔“ اس نے کہا: میں اس کے بغیر صبر نہ کر سکوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”روکے رکھو۔“