السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: نكاح المحدثين وما جاء في قول الله عز وجل: الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشركة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك وحرم ذلك على المؤمنين باب: زانیوں کے نکاح کا بیان اور اللہ عزوجل کے اس فرمان ”زانی مرد، زانی یا مشرک عورت کے سوا کسی سے نکاح نہیں کرتا اور زانی عورت سے، زانی یا مشرک مرد کے سوا کوئی نکاح نہیں کرتا، اور یہ (فعل) مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے“ کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13868
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً} [النور: ٣] الْآيَةَ قَالَ: هِيَ مَنْسُوخَةٌ نَسَخَتْهَا آيَةُ: {وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى} [النور: ٣٢] مِنْكُمْ قَالَ: " فَهِيَ مِنْ أَيَامَى الْمُسْلِمِينَ ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ، سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً﴾ [سورة النور: 3] کے متعلق انہوں نے فرمایا: اس کو اس آیت نے منسوخ کر دیا ہے ﴿وَأَنْكِحُوا الْأَيَامَى مِنْكُمْ﴾ [سورة النور: 32] ”اور نکاح کرو رنڈیوں کا اپنے میں سے۔“ تو یہ مسلمان بیوہ عورتیں تھیں۔