السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما تقول النسوة للعروس باب: عورتیں دلہن کو کیا (دعائیہ کلمات) کہیں، اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيلٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْخَلِيلِ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، أنبأ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْنَا فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، فَوُعِكْتُ، فَتَمَرَّقَ شَعْرِي، فَأَوْفَى جُمَيْمَةً فَأَتَتْنِي أُمِّي أُمُّ رُومَانَ، وَإِنِّي لَفِي أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبَاتٌ لِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا تُرِيدُ بِي، فَأَخَذَتْ بِيَدِي حَتَّى وَقَفَتْنِي عَلَى بَابِ الدَّارِ وَإِنِّي لَأَنْهَجُ حَتَّى سَكَنَ بَعْضُ نَفْسِي، ثُمَّ أَخَذَتْ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ، فَمَسَحَتْ بِهِ وَجْهِي وَرَأْسِي ثُمَّ أَدْخَلَتْنِي الدَّارَ، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَيْتٍ، فَقُلْنَ عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَأَصْلَحْنَ مِنْ شَأْنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضُحًى، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ بِنْتُ تِسْعِ سِنِينَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ أَبِي الْمَغْرَاءِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ.سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے نکاح 6 برس کی عمر میں کیا اور ہم مدینہ آئے تو بنو حارث بن خزرج کے ہاں ٹھہرے۔ مجھے بخار ہو گیا، میرے بال جھڑ گئے، پھر (بڑھ کر) کندھوں تک آ گئے، میری والدہ ام رومان رضی اللہ عنہا آئیں اور میں اپنی سہیلوں کے ساتھ جھولے میں تھی۔ انہوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پاس آئی، مجھے معلوم نہ تھا ان کا کیا ارادہ ہے، انہوں نے مجھے پکڑ کر گھر کی دہلیز پر کھڑا کر دیا اور تھکاوٹ کی وجہ سے میرا سانس پھول رہا تھا۔ پھر انہوں نے تھوڑا سا پانی لے کر میرے سر اور چہرے پر ملا۔ پھر مجھے گھر میں داخل کر دیا۔ اچانک گھر میں انصار کی عورتیں تھیں۔ انہوں نے کہا: «عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ وَعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ» ”آپ پر خیر و برکت ہو اور بہترین نصیب ہو۔“ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے سپرد کر دیا۔ انہوں نے میری حالت کو سنوارا۔ پھر چاشت کے وقت رسول اللہ ﷺ مجھے دکھائی دیے تو ان عورتوں نے مجھے آپ ﷺ کے سپرد کر دیا، اس وقت میری عمر نو برس کی تھی۔