السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما يقال للمتزوج باب: شادی کرنے والے کو کیا (دعا) کہی جائے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 13842
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَيَّانَ التَّمَّارُ، ثنا ابْنُ كَثِيرٍ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: قَدِمَ عَقِيلُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْبَصْرَةَ، فَتَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمٍ، فَقَالُوا لَهُ: بِالرِّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا كَذَلِكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ وَأَمَرَنَا أَنْ نَقُولَ: " بَارَكَ اللهُ لَكَ وَبَارَكَ عَلَيْكَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بنو جشم قبیلہ کی عورت سے بصرہ میں شادی کی تو لوگوں نے ان سے کہا: مبارک باد ہو اور بیٹے کی مبارک باد بھی دی، تو سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”ایسے نہ کہو؛ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور ہمیں حکم دیا کہ یوں کہو: «بَارَكَ اللّٰهُ لَكُمْ، وَبَارَكَ عَلَيْكُمْ» ”اللہ آپ کو برکت دے اور آپ کے اوپر برکت کرے۔““