السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما جاء في خطبة النكاح باب: خطبہ نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصَمُّ ⦗٢٣٧⦘ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تَشَهَّدَ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِ اللهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَرْسَلَهُ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ، مَنْ يُطِعِ اللهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَإِنَّهُ لَا يَضُرُّ إِلَّا نَفْسَهُ، وَلَا يَضُرُّ اللهَ شَيْئًا ".سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رسول کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو کہتے: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اس سے مدد و بخشش طلب کرتے ہیں اور اپنے نفس کی شرارتوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ جس کو اللہ ہدایت دے اس کو گمراہ کرنے والا کوئی نہیں اور جس کو اللہ گمراہ کرے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اللہ نے آپ کو قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر مبعوث کیا ہے اور جس نے اللہ و رسول کی اطاعت کی وہ کامیاب ہو گیا اور جس نے نافرمانی کی وہ اپنا نقصان کرے گا، اللہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔“