حدیث نمبر: 13828
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا إِسْرَائِيلُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا} [النساء: ١]، ثُمَّ ذَكَرَ الْآيَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ، وَلَمْ يَقُلْ: ثُمَّ تَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِكَ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ

اسرائیل رحمہ اللہ نے بھی اسی کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [سورة النساء: 1] ”اے لوگو! اپنے رب سے ڈر جاؤ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس کی بیوی بھی پیدا کی اور اس سے بہت سارے مرد اور عورتیں پیدا کیے اور اس اللہ سے ڈر جاؤ جس کو رشتے داریوں کا واسطہ دے کر سوال کرتے ہو، بیشک اللہ تمہارا نگہبان ہے۔“ اس کے بعد دوسری دو آیات ذکر کیں، لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ اپنی حاجت کے بارے میں کلام کرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13828
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»