السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: لا يرد نكاح غير الكفؤ إذا رضيت به الزوجة، ومن له الأمر معها وكان مسلما باب: اس بیان میں کہ غیر کفو (غیر ہمسر) کا نکاح رد نہیں کیا جائے گا جب بیوی اور وہ شخص جسے اس کے ساتھ فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اس پر راضی ہوں اور وہ (شوہر) مسلمان ہو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَوِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ الْعَدَوِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ تَقُولُ: إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى، وَلَا نَفَقَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي فَآذَنَتْهُ، فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ وَأَبُو جَهْمٍ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو جَهْمٍ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ، وَلَكِنْ أُسَامَةُ " فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا: أُسَامَةُ أُسَامَةُ. قَالَ: فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " طَاعَةُ اللهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ " قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُهُ فَاغْتَبَطْتُ بِهِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ قُرَشِيَّةٌ مِنْ بَنِي فِهْرٍ، فَإِنَّهَا فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسِ بْنِ خَالِدِ بْنِ وَهْبِ بْنِ ⦗٢٢١⦘ ثَعْلَبَةَ بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ شَيْبَانَ بْنِ مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ، وَأُسَامَةُ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ الْكَلْبِيُّ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.ابوبکر بن ابی الجہم عدوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے خرچہ اور رہائش مقرر نہ کی۔ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب حلال ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا۔“ میں نے آپ ﷺ کو اطلاع دی تو مجھے ابو جہم رضی اللہ عنہ، معاویہ رضی اللہ عنہ اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے نکاح کا پیغام دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”معاویہ ایسا آدمی ہے جس کے پاس مال نہیں اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارتا ہے، لیکن اسامہ“، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور رسول کی اطاعت تیرے لیے بہتر ہے۔“ فرماتی ہیں: میں نے شادی کر لی تو میں رشک کی جانے لگی۔
(ب) فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا قریشیہ بنو فہر سے تھیں اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما یہ نبی ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے۔