السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: الابن يزوجها إذا كان عصبة لها بغير البنوة باب: اس بیان میں کہ بیٹا اس عورت کا نکاح کروا سکتا ہے جب وہ بیٹے کے رشتے کے علاوہ کسی اور جہت سے اس کا عصبہ (ولی) بنتا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا "، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا طَلَبْتُ أَبْدَلَنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ فِي نَفْسِي، وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لِابْنِهَا: يَا عُمَرُ قُمْ، فَزَوِّجْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهُ " لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْأَصْبَهَانِيِّ ذِكْرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا ذِكْرُ الْعِدَّةِ، وَلَكِنْ قَالَ: قَالَتْ: فَخَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ، وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَى بِهِ، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ كَانَ عَصَبَةً لَهَا، وَذَاكَ لِأَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ هِيَ هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ، وَعُمَرُ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ.عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (ابو سلمہ رضی اللہ عنہ) سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو مصیبت پہنچے وہ «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ پڑھے۔ (اور یہ کہے:) «اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا» ”اے اللہ! میں اپنی مصیبت پر تیری جانب سے صبر (کے ثواب) کی امید رکھتی ہوں، اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے اچھا نعم البدل عطا فرما۔““ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:) جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے یہ کلمات کہنے شروع کر دیے۔ لیکن جب بھی میں ان کے نعم البدل کا تذکرہ کرتی تو اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہوگا؟ پھر میں یہ کلمات کہتی رہی۔ جب عدت مکمل ہوگئی تو نبی ﷺ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پیغامِ نکاح دے کر بھیجا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! کھڑے ہو جاؤ، آپ رسول اللہ ﷺ کا نکاح کر دیں، تو انہوں نے آپ کا نکاح کر دیا۔
(ب) یہ ابو عبداللہ رحمہ اللہ کی حدیث ہے، لیکن اصبہانی کی روایت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عدت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا: میرے ولیوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی (ولی) موجود یا غائب ایسا نہیں جو میرے اس نکاح پر راضی نہ ہو۔“ میں نے کہا: اے عمر! کھڑے ہو جاؤ اور رسول اللہ ﷺ کا نکاح کر دو۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ان کا عصبہ بھی تھا؛ کیونکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نسب نامہ یہ ہے: ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم اور عمر یہ ابن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔